مری نگاہ میں ہر شخص بے حجاب سا ہے
مری نگاہ میں ہر شخص بے حجاب سا ہے
ہر ایک شخص کا چہرہ کھلی کتاب سا ہے
ترے قریب رہیں ہم تجھے نہ دیکھ سکیں
ہماری آنکھوں پہ شاید کوئی حجاب سا ہے
تلاش میں ہیں سکوں کی سکوں نہیں ملتا
ہمارا جسم بھی ہم پر کوئی عتاب سا ہے
فضا میں بغض و عداوت کی گرد ہے رقصاں
ہمارے شہر کا موسم ابھی خراب سا ہے
پھر آج ان کو مری یاد آ گئی مشکورؔ
پھر آج قلب کی دھڑکن میں اضطراب سا ہے