جو راہ عشق میں ٹوٹا نہیں ہے

جو راہ عشق میں ٹوٹا نہیں ہے
وہ دل اک سنگ ہے شیشہ نہیں ہے


بھلا دیں وہ مجھے ایسا نہیں ہے
مگر اب جی کہیں لگتا نہیں ہے


خدایا لاج رکھنا ضبط غم کی
مزاج زندگی اچھا نہیں ہے


حکومت ذہن و دل پر ہے اسی کی
جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے


اسے دنیا کی آنکھیں تک رہی ہیں
وہ بادل جو ابھی برسا نہیں ہے


نظر کے سامنے پردہ ہے مشکورؔ
دلوں کے درمیاں پردہ نہیں ہے