Mashkoor Muradabadi

مشکور مرادآبادی

مشکور مرادآبادی کی غزل

    دل ان کو دے چکے ہیں مگر بات بھی تو ہو

    دل ان کو دے چکے ہیں مگر بات بھی تو ہو ان سے کبھی ہماری ملاقات بھی تو ہو مانا کہ قلب و جاں میں وہ رہتے ہیں ضو فشاں ظاہر میں ان کے نور کی برسات بھی تو ہو ان کے سوا نہ چاند ستارے دکھائی دیں ایسی ہمیں نصیب کوئی رات بھی تو ہو دیکھے بغیر سجدہ ادا کس طرح کریں پیش نظر ہمارے تری ذات بھی تو ...

    مزید پڑھیے

    کہکشان غم سے پر ہے آسمان زندگی

    کہکشان غم سے پر ہے آسمان زندگی اور زمیں پر ہر قدم ہے امتحان زندگی کیا سنائیں آپ کو ہم داستان زندگی بن گیا چہرا ہمارا ترجمان زندگی جب تصور میں ترا چہرہ نظر آنے لگا ہو گئی رنگین و روشن داستان زندگی کیا ہمیں دنیا سے شکوہ کیا شکایت آپ سے بن گئے اپنے ہی ارماں دشمنان زندگی جو وفا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2