Mashkoor Mamnoon Qannauji

مشکور ممنون قنوجی

مشکور ممنون قنوجی کی غزل

    میرے لیے تو پھر کوئی میرا نہیں ہوا

    میرے لیے تو پھر کوئی میرا نہیں ہوا تجھ سے بچھڑ کے میں بھی کسی کا نہیں ہوا اس نے بھی خواہشوں کو بہکنے نہیں دیا میں بھی جنون عشق میں اندھا نہیں ہوا بویا تھا ہم نے جو بھی وہی کاٹنا پڑا کیسے کہیں کہ جو ہوا اچھا نہیں ہوا وقت دعا یہ خوف ستاتا رہا مجھے مقبول کیا مرا کوئی سجدہ نہیں ...

    مزید پڑھیے

    مسئلہ ہے تو کوئی حل بھی نکالا جائے

    مسئلہ ہے تو کوئی حل بھی نکالا جائے آؤ حالات کو مل جل کے سنبھالا جائے ہم تو آئینہ صفت لوگ ہیں سچ بولیں گے ہم پہ ہرگز نہ کوئی سنگ اچھالا جائے یا تو خوابوں میں حقیقت کا کوئی رنگ بھرو یا تو کہہ دو کہ کوئی خواب نہ پالا جائے عشق میں ہار بھی ممکن ہے مگر بدلے میں پھول سے چہروں پہ تیزاب ...

    مزید پڑھیے

    رخ انسانیت پر بھیگے جوتے مار دیتی ہے

    رخ انسانیت پر بھیگے جوتے مار دیتی ہے یہاں پر بھوک اب معصوم بچے مار دیتی ہے ہمیں معلوم ہے ناجائز و جائز ہے کیا لیکن شکم کی آگ تو سارے سلیقے مار دیتی ہے مرے دل میں بھی جذبے ہیں تمنائیں مچلتی ہیں مگر غربت محبت کے ارادے مار دیتی ہے محبت اجنبی لوگوں سے رشتہ جوڑ لیتی ہے کدورت حد سے ...

    مزید پڑھیے

    بند ہے جو زبان کھولوں کیا

    بند ہے جو زبان کھولوں کیا سن سکو گے مجھے میں بولوں کیا تیز بارش ہے اور موقع بھی میں تجھے ساتھ میں بھگو لوں کیا تیری منزل ہی میری منزل ہے میں ترے ساتھ ساتھ ہو لوں کیا مر چکا ہے جو مجھ میں زندہ تھا نبض اس کی میں اب ٹٹولوں کیا میں تمہارا ہوں بس تمہارا ہوں اب کسی اور سے نہ بولوں ...

    مزید پڑھیے

    وہ ہمیں اور ہم انہیں بس دور سے دیکھا کئے

    وہ ہمیں اور ہم انہیں بس دور سے دیکھا کئے عمر بھر اک دوسرے کو ہم یوں ہی چاہا کئے اس نے وعدہ توڑ ڈالا یہ اسے حق تھا مگر کس قدر معصوم تھے ہم راستہ دیکھا کئے پا لیا اہل جنوں نے پھر شہادت کا مقام عقل والے مغفرت کی ہی دعا مانگا کئے تو نے میری سمت نا دیکھا پلٹ کے ایک بار جانے والے ہم تو ...

    مزید پڑھیے

    مرے سکون مری ہر خوشی کو لے ڈوبا

    مرے سکون مری ہر خوشی کو لے ڈوبا ترا فریب مری زندگی کو لے ڈوبا چراغ راہ سے کچھ روشنی میسر تھی ہوا کا زور اسی روشنی کو لے ڈوبا ترے وصال میں رونق تھی میرے چہرے پر ترا فراق مری تازگی کو لے ڈوبا بدلنے والی تھی تقدیر میرا مستقبل مرا جنون مری بہتری کو لے ڈوبا ترقیوں کو تسلسل ہے ...

    مزید پڑھیے

    اس قدر بھی دکھی نہیں تھے ہم

    اس قدر بھی دکھی نہیں تھے ہم جیسے اب ہیں کبھی نہیں تھے ہم دوسرا اس کو مل گیا کوئی آخری آدمی نہیں تھے ہم ہر ضرورت کی ایک قیمت تھی اور اتنے دھنی نہیں تھے ہم کیسے چاہت کسی کو دے دیتے یار اتنے سخی نہیں تھے ہم کیسے دامن بچاتے دنیا سے آدمی متقی نہیں تھے ہم جو تصور تھا اس کے خوابوں ...

    مزید پڑھیے

    تیرگی میں ایک پل کا ہی سہارا کر گیا

    تیرگی میں ایک پل کا ہی سہارا کر گیا وہ چراغوں کی طرح شب میں اجالا کر گیا جستجو خواہش طلب حسرت تمنا آرزو جاتے جاتے وہ سبھی جذبوں کو ٹھنڈا کر گیا فاصلہ کچھ بھی نہیں تھا جسم و جاں کے درمیاں وہ مگر اس میں بھی تھوڑا فاصلہ سا کر گیا یہ بہت اچھا کیا کہ پھیر لی اس نے نظر کم سے کم میرے ...

    مزید پڑھیے

    درمیاں فاصلہ رہ گیا

    درمیاں فاصلہ رہ گیا وہ خفا تھا خفا رہ گیا ہم سے احسان اترے نہیں سر جھکا تھا جھکا رہ گیا خواہشیں نا مکمل رہیں ذہن پر بوجھ سا رہ گیا اوڑھ لیں میں نے خاموشیاں مسئلہ مسئلہ رہ گیا کس قدر خوب صورت ہو تم آئنہ سوچتا رہ گیا وہ گیا اور مشکورؔ میں دور تک دیکھتا رہ گیا

    مزید پڑھیے

    چھپا کر سب کی نظروں سے صدا پردے میں رکھا ہے

    چھپا کر سب کی نظروں سے صدا پردے میں رکھا ہے ہزاروں راز ایسے ہیں جنہیں سینے میں رکھا ہے کبھی سر کی کبھی جاں کی کبھی اس ذات پرور کی ہمیشہ تیری قسموں نے مجھے دھوکے میں رکھا ہے یہیں سے راہ چننے کا سبق دینا ضروری ہے ابھی بچپن کتابوں کی طرح بستے میں رکھا ہے جہاں اک دوسرے کو ہم صدا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2