مسئلہ ہے تو کوئی حل بھی نکالا جائے

مسئلہ ہے تو کوئی حل بھی نکالا جائے
آؤ حالات کو مل جل کے سنبھالا جائے


ہم تو آئینہ صفت لوگ ہیں سچ بولیں گے
ہم پہ ہرگز نہ کوئی سنگ اچھالا جائے


یا تو خوابوں میں حقیقت کا کوئی رنگ بھرو
یا تو کہہ دو کہ کوئی خواب نہ پالا جائے


عشق میں ہار بھی ممکن ہے مگر بدلے میں
پھول سے چہروں پہ تیزاب نہ ڈالا جائے


تلخ لہجے سے بنی بات بگڑ جاتی ہے
سوچ کر لفظ کوئی منہ سے نکالا جائے


جن سے مشکورؔ سنبھالا نہ گیا گھر اپنا
کیسے پھر ان سے بھلا ملک سنبھالا جائے