وہ ہمیں اور ہم انہیں بس دور سے دیکھا کئے
وہ ہمیں اور ہم انہیں بس دور سے دیکھا کئے
عمر بھر اک دوسرے کو ہم یوں ہی چاہا کئے
اس نے وعدہ توڑ ڈالا یہ اسے حق تھا مگر
کس قدر معصوم تھے ہم راستہ دیکھا کئے
پا لیا اہل جنوں نے پھر شہادت کا مقام
عقل والے مغفرت کی ہی دعا مانگا کئے
تو نے میری سمت نا دیکھا پلٹ کے ایک بار
جانے والے ہم تو تجھ کو دور تک دیکھا کئے
بانٹ دی اللہ نے وقت سحر سب نعمتیں
ہم سے غافل دھوپ کے چڑھنے تلک سویا کئے
کیا بتاؤں دوستوں اپنی یہ دل کی داستاں
ہم کسی کی دل لگی کو چاہتیں سمجھا کئے