درمیاں فاصلہ رہ گیا
درمیاں فاصلہ رہ گیا
وہ خفا تھا خفا رہ گیا
ہم سے احسان اترے نہیں
سر جھکا تھا جھکا رہ گیا
خواہشیں نا مکمل رہیں
ذہن پر بوجھ سا رہ گیا
اوڑھ لیں میں نے خاموشیاں
مسئلہ مسئلہ رہ گیا
کس قدر خوب صورت ہو تم
آئنہ سوچتا رہ گیا
وہ گیا اور مشکورؔ میں
دور تک دیکھتا رہ گیا