میرے لیے تو پھر کوئی میرا نہیں ہوا

میرے لیے تو پھر کوئی میرا نہیں ہوا
تجھ سے بچھڑ کے میں بھی کسی کا نہیں ہوا


اس نے بھی خواہشوں کو بہکنے نہیں دیا
میں بھی جنون عشق میں اندھا نہیں ہوا


بویا تھا ہم نے جو بھی وہی کاٹنا پڑا
کیسے کہیں کہ جو ہوا اچھا نہیں ہوا


وقت دعا یہ خوف ستاتا رہا مجھے
مقبول کیا مرا کوئی سجدہ نہیں ہوا


شب بھر تمہاری یاد کا پہرہ لگا رہا
پھر آج ہم پہ نیند کا حملہ نہیں ہوا


دشواریوں میں ہم کو خدا یاد آ گیا
ورنہ تو ایک وقت کا سجدہ نہیں ہوا


مشکورؔ کی صدا پہ وہ مڑ کر نہ آ سکا
ناراض ہم سے وہ کبھی اتنا نہیں ہوا