Mashkoor Mamnoon Qannauji

مشکور ممنون قنوجی

مشکور ممنون قنوجی کی غزل

    محبت کا دکھاوا کر رہا ہے

    محبت کا دکھاوا کر رہا ہے وہ میرے ساتھ دھوکا کر رہا ہے سماعت نے اذاں جب سے سنی ہے مرا ایمان سجدہ کر رہا ہے جسے مسند کی چاہت ہو گئی ہے وہی لاشوں کا دھندا کر رہا ہے عبادت علم کی آغوش میں ہے کوئی قطرہ کو دریا کر رہا ہے کوئی مصروف ہے شکر خدا میں کوئی دن رات شکوہ کر رہا ہے جہاں میں کس ...

    مزید پڑھیے

    کھلے گی نیند خوابوں کا گھروندا ٹوٹ جائے گا

    کھلے گی نیند خوابوں کا گھروندا ٹوٹ جائے گا حقیقت روبرو ہوگی تو سپنا ٹوٹ جائے گا تمہیں تو چاند بننا ہے مری تاریک راتوں کا ستارہ تم نہیں بننا ستارا ٹوٹ جائے گا مجھے اپنوں یا غیروں سے کوئی شکوہ نہیں لیکن فریب اتنے ملیں گے تو بھروسہ ٹوٹ جائے گا مرا معصوم دل تو فطرتاً شیشے کے جیسا ...

    مزید پڑھیے

    جنوں کی سر پرستی چاہتی ہے

    جنوں کی سر پرستی چاہتی ہے بغاوت اب بلندی چاہتی ہے بھلا کر فرق سب اچھے برے کا یہ دنیا بس ترقی چاہتی ہے مریں ہندو مسلماں بوڑھے بچے سیاست صرف کرسی چاہتی ہے تکبر ناگواری کا سبب ہے عبادت عاجزی بھی چاہتی ہے فقط وعدوں سے یہ بجھتی نہیں ہے شکم کی آگ روٹی چاہتی ہے یہ چنگاری سیاست کی ...

    مزید پڑھیے

    تیری زمیں کی خاک میں مل کر چلے گئے

    تیری زمیں کی خاک میں مل کر چلے گئے جانے یہاں سے کتنے سکندر چلے گئے مایوسیاں سمٹ کے نظر میں سما گئیں جب تم مری نگاہ سے باہر چلے گئے شرمندۂ نظر تھے نظر کیا ملاتے وہ کچھ لوگ اپنے سر کو جھکا کر چلے گئے سوچا تھا ہم نے ساتھ گزاریں گے زندگی تم تو ہماری سوچ بدل کر چلے گئے خنجر کا گھاؤ ...

    مزید پڑھیے

    ترا فراق مقدر سمجھ لیا ہم نے

    ترا فراق مقدر سمجھ لیا ہم نے اب اپنے آپ کو پتھر سمجھ لیا ہم نے تمہاری یاد کے پلکوں پہ اشک روشن تھے اندھیری شب کو منور سمجھ لیا ہم نے یہ خود فریبی نہیں ہے تو اور کیا کہئے ہر ایک سائے کو پیکر سمجھ لیا ہم نے سپرد کر دئے سارے حقوق رہزن کو یہ کس ذلیل کو رہبر سمجھ لیا ہم نے تمام جسم ...

    مزید پڑھیے

    جب کوئی سچ بات چھپانی پڑتی ہے

    جب کوئی سچ بات چھپانی پڑتی ہے تب جھوٹی اک بات بنانی پڑتی ہے اندر اندر کتنے ہی ہم زخمی ہوں چہرے پر مسکان سجانی پڑتی ہے اعتماد بھی حد سے زیادہ ٹھیک نہیں کبھی کبھی تو منہ کی خانی پڑتی ہے ارمانوں کی لاش اٹھا کر کاندھوں پر کسی کسی کو عمر بتانی پڑتی ہے کبھی کبھی کچھ یاد بھی رکھنا ...

    مزید پڑھیے

    ایسا نہیں دعاؤں میں مانگا نہیں تجھے

    ایسا نہیں دعاؤں میں مانگا نہیں تجھے قسمت میں ہی نہیں تھا جو پایا نہیں تجھے دل تو عقیدتوں کی حدوں سے گزر گیا وہ تو خدا کا خوف تھا پوجا نہیں تجھے سب منتظر تھے میری نگاہیں کدھر اٹھیں میں نے بھی احتیاط میں دیکھا نہیں تجھے شاید پلٹ کے دیکھ لے تو ہی میری طرف میں نے اسی امید پہ روکا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2