مرے سکون مری ہر خوشی کو لے ڈوبا

مرے سکون مری ہر خوشی کو لے ڈوبا
ترا فریب مری زندگی کو لے ڈوبا


چراغ راہ سے کچھ روشنی میسر تھی
ہوا کا زور اسی روشنی کو لے ڈوبا


ترے وصال میں رونق تھی میرے چہرے پر
ترا فراق مری تازگی کو لے ڈوبا


بدلنے والی تھی تقدیر میرا مستقبل
مرا جنون مری بہتری کو لے ڈوبا


ترقیوں کو تسلسل ہے انکساری میں
غرور آیا کہ بس آدمی کو لے ڈوبا


لبوں نے صبر تحمل کو کھا لیا مشکورؔ
ستم تمہارا مری خاموشی کو لے ڈوبا