بند ہے جو زبان کھولوں کیا

بند ہے جو زبان کھولوں کیا
سن سکو گے مجھے میں بولوں کیا


تیز بارش ہے اور موقع بھی
میں تجھے ساتھ میں بھگو لوں کیا


تیری منزل ہی میری منزل ہے
میں ترے ساتھ ساتھ ہو لوں کیا


مر چکا ہے جو مجھ میں زندہ تھا
نبض اس کی میں اب ٹٹولوں کیا


میں تمہارا ہوں بس تمہارا ہوں
اب کسی اور سے نہ بولوں کیا


ضبط مشکورؔ جان لے لے گا
بیٹھ کر تھوڑی دیر رو لوں کیا