چھپا کر سب کی نظروں سے صدا پردے میں رکھا ہے

چھپا کر سب کی نظروں سے صدا پردے میں رکھا ہے
ہزاروں راز ایسے ہیں جنہیں سینے میں رکھا ہے


کبھی سر کی کبھی جاں کی کبھی اس ذات پرور کی
ہمیشہ تیری قسموں نے مجھے دھوکے میں رکھا ہے


یہیں سے راہ چننے کا سبق دینا ضروری ہے
ابھی بچپن کتابوں کی طرح بستے میں رکھا ہے


جہاں اک دوسرے کو ہم صدا دشمن سمجھتے ہیں
سیاست نے ہمیشہ ہم کو اس پالے میں رکھا ہے


کسی بھی وقت سانسوں کی یہ ڈوری ٹوٹ سکتی ہے
ہمارا جسم تو ہر پل کسی کھاتے میں رکھا ہے


اندھیرا آ نہیں سکتا کبھی تنہائی کا مشکورؔ
اجالا تیری یادوں کا مرے کمرے میں رکھا ہے