اس قدر بھی دکھی نہیں تھے ہم

اس قدر بھی دکھی نہیں تھے ہم
جیسے اب ہیں کبھی نہیں تھے ہم


دوسرا اس کو مل گیا کوئی
آخری آدمی نہیں تھے ہم


ہر ضرورت کی ایک قیمت تھی
اور اتنے دھنی نہیں تھے ہم


کیسے چاہت کسی کو دے دیتے
یار اتنے سخی نہیں تھے ہم


کیسے دامن بچاتے دنیا سے
آدمی متقی نہیں تھے ہم


جو تصور تھا اس کے خوابوں میں
ہو بہ ہو کیا وہی نہیں تھے ہم


اب تو مشکورؔ ایسا لگتا ہے
تیرے دل میں کبھی نہیں تھے ہم