منصور عمر کی غزل

    خدایا ذرا ان پہ احسان کر دے

    خدایا ذرا ان پہ احسان کر دے جو ہیں آدمی ان کو انسان کر دے رہیں یاد کے وہ گھروندے سلامت مگر دل کے آنگن کو ویران کر دے کبھی اپنے ہی روبرو جب کھڑا ہو تو آئینہ اس کو بھی حیران کر دے زمیں تا فلک ہو مرا نام روشن کچھ ایسا ہی جینے کا سامان کر دے بہت ناز ہے جن کو اپنی انا پر کبھی میرے گھر ...

    مزید پڑھیے

    کون ہے تنہا اکیلا میں کہ تو

    کون ہے تنہا اکیلا میں کہ تو اور سارے جگ میں رسوا میں کہ تو پھیرنے والا سیاہی چاند پر اور پھر باہر سے اجلا میں کہ تو یہ جہاں تیری عطا مانا مگر کون ہے دل دادہ اس کا میں کہ تو موت کی چاہت میں دیوانہ ہے کون زندگی کو کرکے رسوا میں کہ تو بن کے طوفاں ساحلوں کے درمیاں پھر رہا تھا دریا ...

    مزید پڑھیے

    پھیلا کے خود کو دیکھ ذرا اشتہار دے

    پھیلا کے خود کو دیکھ ذرا اشتہار دے جب تک نہ در کھلے تو صدا بار بار دے آنگن میں آفتاب اتارے گا پھر کبھی پہلے ہمارے گھر میں اک آنگن اتار دے مسجد سے لاالہ کی صدا آئے بار بار گنبد کے ساتھ ہی کوئی اونچا منار دے درد انا کی خاک میں لپٹے ہوئے ہیں لوگ آنکھوں کو آئنہ دے نظر کو حصار ...

    مزید پڑھیے

    آیا تھا ساتھ لے کے میں سوغات خیر و شر

    آیا تھا ساتھ لے کے میں سوغات خیر و شر پیچھے لگی رہیں مگر آیات خیر و شر جھوٹی انا کے زعم میں گھر سے نکل پڑا اے کاش بھول جاؤں وہ لمحات خیر و شر بچوں کو درس دینے کا نسخہ بدل گیا دیتے ہیں مولوی نہ ہدایات خیر و شر سمتوں کا کچھ خیال نہ اوقات ہی کا علم اللہ رے جستجوئے مقامات خیر و ...

    مزید پڑھیے

    وقت کے آذر بتا یہ سانحہ کیونکر ہوا

    وقت کے آذر بتا یہ سانحہ کیونکر ہوا ہم نے جس کو خود بنایا وہ خدا کیونکر ہوا شور ہے ہر سمت اور اک بھیڑ ہے چاروں طرف پوچھتے ہو پھر بھی وہ ہم سے جدا کیونکر ہوا کرتا تھا دعویٰ خدائی کا اسی سے پوچھ لو درمیان آب‌ و آتش راستہ کیونکر ہوا وہ نیا کہہ کر جسے دہرا رہا ہے بار بار دنیا ہے ...

    مزید پڑھیے

    مولا میگھا پانی دے

    مولا میگھا پانی دے کھیت کو لہنگا دھانی دے کشتی کی آنکھیں ہیں خشک دریا میں طغیانی دے دیکھوں جب بھی آئینہ تھوڑی سی حیرانی دے جی بھر تجھ کو دیکھ سکوں جلوہ اک نورانی دے رستے سب پامال ہوئے راہ کوئی انجانی دے توڑ تعطل کی زنجیر فطرت کچھ سیلانی دے تو خالق اور رازق ہے دھوپ ہوا اور ...

    مزید پڑھیے

    میرے ہاتھوں میں کبھی اس کی کلائی دے دے

    میرے ہاتھوں میں کبھی اس کی کلائی دے دے یعنی اک پل کو مجھے ساری خدائی دے دے اس کے پہلو میں رہوں کاش میں دھڑکن بن کر میں جو محسوس کروں اس کو سنائی دے دے ایک اک لمحہ مرا یاد میں اس کی گزرے بس مجھے وہ ہی وہ ہر شے میں دکھائی دے دے اس کے آنچل سے لپٹتی ہیں ہوائیں کیونکر جز مرے سارے زمانے ...

    مزید پڑھیے

    دریا دریا پانی ہے

    دریا دریا پانی ہے جیون ایک کہانی ہے پھول کھلے ہیں دل میں پھر تیری یاد سہانی ہے تلسی تیرے آنگن کی میرے گھر کی رانی ہے جوبن اس کا گدرایا رنگ چنر کا دھانی ہے اس کو تنہا مت چھوڑو لڑکی ذات سیانی ہے لب پر اس کے چپ سی اور آنکھوں میں طغیانی ہے دے کے واپس مانگ لیا تو بھی کیسا دانی ...

    مزید پڑھیے

    کبھی صبح لکھ اور کبھی شام لکھ

    کبھی صبح لکھ اور کبھی شام لکھ مگر ہر صفحے پر مرا نام لکھ سجا کر جسے عمر بھر رکھ سکوں کوئی ایسا رقعہ مرے نام لکھ جو گمنام ہیں ان کو مشہور کر جو مشہور ہیں ان کو گمنام لکھ ورق بیچ کا ہی بہت ہے میاں نہ آغاز لکھ اور نہ انجام لکھ ہے جہد مسلسل ہی ایماں مگر کوئی دم کو تھوڑا سا آرام ...

    مزید پڑھیے

    اب کے سورج بھی یہاں گرچہ برہنہ اترا

    اب کے سورج بھی یہاں گرچہ برہنہ اترا میری دہلیز پہ لیکن نہ سویرا اترا پھینک کر مجھ کو سمندر میں بہت اچھا کیا چند غوطوں سے مرے خوف کا سایہ اترا مجھ کو ڈستے رہے ماضی کے سپنولے ہر پل میری یادوں سے نہ اب تک وہ گھروندا اترا روشنی میں تو سبھی لے گئے سبقت لیکن اندھے غاروں میں فقط میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2