اب کے سورج بھی یہاں گرچہ برہنہ اترا

اب کے سورج بھی یہاں گرچہ برہنہ اترا
میری دہلیز پہ لیکن نہ سویرا اترا


پھینک کر مجھ کو سمندر میں بہت اچھا کیا
چند غوطوں سے مرے خوف کا سایہ اترا


مجھ کو ڈستے رہے ماضی کے سپنولے ہر پل
میری یادوں سے نہ اب تک وہ گھروندا اترا


روشنی میں تو سبھی لے گئے سبقت لیکن
اندھے غاروں میں فقط میں ہی اکیلا اترا


میں کہ منصورؔ تھا صدیوں کا پیاسا شاید
دار پر چڑھ کے بھی ہر بار میں پیاسا اترا