کون ہے تنہا اکیلا میں کہ تو
کون ہے تنہا اکیلا میں کہ تو
اور سارے جگ میں رسوا میں کہ تو
پھیرنے والا سیاہی چاند پر
اور پھر باہر سے اجلا میں کہ تو
یہ جہاں تیری عطا مانا مگر
کون ہے دل دادہ اس کا میں کہ تو
موت کی چاہت میں دیوانہ ہے کون
زندگی کو کرکے رسوا میں کہ تو
بن کے طوفاں ساحلوں کے درمیاں
پھر رہا تھا دریا دریا میں کہ تو
بت کدہ میں قید تو آزاد میں
کون ہے مٹی کا پتلا میں کہ تو
صورت منصورؔ پھر آواز حق
بول بالا کرنے والا میں کہ تو