کبھی صبح لکھ اور کبھی شام لکھ

کبھی صبح لکھ اور کبھی شام لکھ
مگر ہر صفحے پر مرا نام لکھ


سجا کر جسے عمر بھر رکھ سکوں
کوئی ایسا رقعہ مرے نام لکھ


جو گمنام ہیں ان کو مشہور کر
جو مشہور ہیں ان کو گمنام لکھ


ورق بیچ کا ہی بہت ہے میاں
نہ آغاز لکھ اور نہ انجام لکھ


ہے جہد مسلسل ہی ایماں مگر
کوئی دم کو تھوڑا سا آرام لکھ


خودی ہو مگر خود نمائی نہ ہو
کچھ ایسا ہی منصورؔ پیغام لکھ


یوں ہی سرخ رو ہوگا منصورؔ تو
مرے ماتھے سارے ہی الزام لکھ