پھیلا کے خود کو دیکھ ذرا اشتہار دے
پھیلا کے خود کو دیکھ ذرا اشتہار دے
جب تک نہ در کھلے تو صدا بار بار دے
آنگن میں آفتاب اتارے گا پھر کبھی
پہلے ہمارے گھر میں اک آنگن اتار دے
مسجد سے لاالہ کی صدا آئے بار بار
گنبد کے ساتھ ہی کوئی اونچا منار دے
درد انا کی خاک میں لپٹے ہوئے ہیں لوگ
آنکھوں کو آئنہ دے نظر کو حصار دے
رسوائیوں کے جسم سے اترے تھکن کی دھول
ٹھہری ہوئی ندی کو کوئی آبشار دے
محسوس کر سکیں نہ ہم پچھلے پہر کا کیف
درد فراق میں بھی اک خنجر اتار دے
پوچھیں ہم اپنے پاؤں کے چھالے اس کا راز
اس رہ گزر کو اک شجر سایہ دار دے
نفرت کے کنگرے پہ محبت کا رکھ چراغ
بیتے دنوں کی یاد نہ آئے وہ پیار دے
منصورؔ میں چراغاں کروں گا چہار سو
میرے جگر کو بھی وہی سوز و شرار دے