دریا دریا پانی ہے
دریا دریا پانی ہے
جیون ایک کہانی ہے
پھول کھلے ہیں دل میں پھر
تیری یاد سہانی ہے
تلسی تیرے آنگن کی
میرے گھر کی رانی ہے
جوبن اس کا گدرایا
رنگ چنر کا دھانی ہے
اس کو تنہا مت چھوڑو
لڑکی ذات سیانی ہے
لب پر اس کے چپ سی اور
آنکھوں میں طغیانی ہے
دے کے واپس مانگ لیا
تو بھی کیسا دانی ہے
خود سے بے بہرہ ہے جو
وہ بھی ایک گیانی ہے
سب کا خالق مالک تو
کوئی نہ تیرا ثانی ہے
دنیا کا مت ہو منصورؔ
یہ دنیا تو فانی ہے