وقت کے آذر بتا یہ سانحہ کیونکر ہوا
وقت کے آذر بتا یہ سانحہ کیونکر ہوا
ہم نے جس کو خود بنایا وہ خدا کیونکر ہوا
شور ہے ہر سمت اور اک بھیڑ ہے چاروں طرف
پوچھتے ہو پھر بھی وہ ہم سے جدا کیونکر ہوا
کرتا تھا دعویٰ خدائی کا اسی سے پوچھ لو
درمیان آب و آتش راستہ کیونکر ہوا
وہ نیا کہہ کر جسے دہرا رہا ہے بار بار
دنیا ہے صدیوں سے واقف پھر نیا کیونکر ہوا
مدتوں سے تھا شریک غم تو پھر اے دوستو
آج اس کو کیا ہوا ہم سے جدا کیونکر ہوا
عقل حیراں ہو رہی ہے عشق کی پرواز پر
ایک پل میں طے یہ آخر مرحلہ کیونکر ہوا
اس کی حیثیت ہے کل کی اور ہم سب اس کے جزو
وہ سمندر ہے تو فطرت سے جدا کیونکر ہوا
تاج تیرے سر کا جو بے سر ہوا تھا اے جمیلؔ
میں ہوں تیری خاک پا مجھ کو عطا کیونکر ہوا
رہبروں کی رہنمائی میں چلے منصورؔ ہم
قافلہ پھر بھی لٹا یہ حادثہ کیونکر ہوا