منصور عمر کی غزل

    سلطنت جاتی رہی سلطان آدھا رہ گیا

    سلطنت جاتی رہی سلطان آدھا رہ گیا ڈیوڑھی گروی ہوئی دالان آدھا رہ گیا ہم ہوئے آزاد ہندستان آدھا رہ گیا پھر تعجب کیا جو پاکستان آدھا رہ گیا عقل سے فارغ ہوا انسان آدھا رہ گیا عید دوبالا ہوئی رمضان آدھا رہ گیا جیتنے کے باد وہ جوں ہی منسٹر ہو گئے گویا ان پر قوم کا احسان آدھا رہ ...

    مزید پڑھیے

    شب کا سناٹا ڈراتا ہے مجھے

    شب کا سناٹا ڈراتا ہے مجھے خواب میں آ کر جگاتا ہے مجھے وہ مجھے شاید نہیں پہچانتا میرا ہی قصہ سناتا ہے مجھے چلچلاتی دھوپ میں جلتا رہا دن ڈھلے سایہ بلاتا ہے مجھے بھول جاؤں کس طرح میں دوستو بیتا موسم یاد آتا ہے مجھے جو ازل سے تھا مرے قدموں تلے اب وہ ذرہ آزماتا ہے مجھے نام سے محفل ...

    مزید پڑھیے

    اسیر گردش دوراں ہوئے ہیں

    اسیر گردش دوراں ہوئے ہیں مرے جینے کے یہ ساماں ہوئے ہیں جو آئے روبرو ہم آئنے کے تو خود کو دیکھ کر حیراں ہوئے ہیں فقیروں کی طرح رہتے تھے لیکن وہ سلطانوں کے بھی سلطاں ہوئے ہیں اک ایسا وقت بھی آیا ہے لوگو کہ خود پر آپ نوحہ خواں ہوئے ہیں ہوئے منصورؔ جب بیگانہ خود سے ہمارے خوں بہت ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2