آیا تھا ساتھ لے کے میں سوغات خیر و شر

آیا تھا ساتھ لے کے میں سوغات خیر و شر
پیچھے لگی رہیں مگر آیات خیر و شر


جھوٹی انا کے زعم میں گھر سے نکل پڑا
اے کاش بھول جاؤں وہ لمحات خیر و شر


بچوں کو درس دینے کا نسخہ بدل گیا
دیتے ہیں مولوی نہ ہدایات خیر و شر


سمتوں کا کچھ خیال نہ اوقات ہی کا علم
اللہ رے جستجوئے مقامات خیر و شر


منصورؔ اپنی آنکھوں پہ آیا نہ اعتبار
آئے تھے مجھ کو دینے وہ خیرات خیر و شر