پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے
پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے سامنے آنکھ کے یوں تجھ کو سجایا ہوا ہے در و دیوار تمدن کو گرایا جس نے ہائے وہ حشر ہمارا ہی اٹھایا ہوا ہے اپنی پرواز پہ نازاں جو اڑا پھرتا ہے وہ پرندہ بھی ہمارا ہی اڑایا ہوا ہے دو گھڑی آنکھ لگا لو کرو احساں ان پر تم نے خوابوں کو کئی دن سے جگایا ...