Mansoor Faaiz

منصور فائز

منصور فائز کی غزل

    پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے

    پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے سامنے آنکھ کے یوں تجھ کو سجایا ہوا ہے در و دیوار تمدن کو گرایا جس نے ہائے وہ حشر ہمارا ہی اٹھایا ہوا ہے اپنی پرواز پہ نازاں جو اڑا پھرتا ہے وہ پرندہ بھی ہمارا ہی اڑایا ہوا ہے دو گھڑی آنکھ لگا لو کرو احساں ان پر تم نے خوابوں کو کئی دن سے جگایا ...

    مزید پڑھیے

    سوچ کر دریا ہے کیا صحرا ہے کون

    سوچ کر دریا ہے کیا صحرا ہے کون وادیٔ حیرت میں وہ گم سا ہے کون جھک رہا ہے آسماں نیچے کی سمت خاکداں پر دیکھ تو آیا ہے کون ہونٹ پر سچ چپ کی صورت کھل اٹھا راز افشا جب ہوا دنیا ہے کون اٹھ رہی ہوں کس کے چلنے سے سمجھ دھول میں ہوں پھر بتا رستا ہے کون جانتا ہوں نیند میں ہوں چل رہا سوچتا ...

    مزید پڑھیے

    بنجر زمیں پہ چادر سرسبز ڈال دے

    بنجر زمیں پہ چادر سرسبز ڈال دے دریا ہوں مجھ کو جانب صحرا اچھال دے تیرا ہی نور ان کے بدن سے ہو جلوہ گر میرے لکھے حروف کو ایسا جمال دے اٹھیں جو میرے پاؤں تو دھرتی ہو رقص میں یہ کائنات رقص کرے وہ دھمال دے حیرت کی دھوپ سے بھی نہ پگھلے وجود برف رب کمال مجھ کو ہنر بے مثال دے میرا قدم ...

    مزید پڑھیے

    لوگ جس شخص کو سردار بنا دیتے ہیں

    لوگ جس شخص کو سردار بنا دیتے ہیں اپنی تقدیر کا مختار بنا دیتے ہیں شعر کا رشتہ کسی فکر سے ہو یا نہیں ہو چند الفاظ اسے شہکار بنا دیتے ہیں تجربے پر ہے نئے علم کی بنیاد صدا دائرہ دیکھ کے پرکار بنا دیتے ہیں صاحب کن فیکوں میرے بھی سینے میں اتار لفظ جو آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں اتنا ...

    مزید پڑھیے

    کس سمت مڑ گئی تھی مجھے یاد آ گئی

    کس سمت مڑ گئی تھی مجھے یاد آ گئی ہاں ہاں وہ روشنی تھی مجھے یاد آ گئی تتلی جو گر پڑی تھی مجھے یاد آ گئی سبزے کو چومتی تھی مجھے یاد آ گئی یادوں کے ایک باغ میں رکھے جوں ہی قدم جتنی بھی زندگی تھی مجھے یاد آ گئی پازیب کی صدا تھی جو دیکھا تو اک پری پانی پہ چل رہی تھی مجھے یاد آ گئی لوٹ ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نہیں کہہ رہی یہ رات مجھے

    کچھ نہیں کہہ رہی یہ رات مجھے درد سے چاہیے نجات مجھے جانے لگتا ہے ایسا کیوں مجھ کو پھر گرانا ہے سومنات مجھے بے نیازی کی اس بلندی پر کچھ نہیں کہتے سانحات مجھے جب نکلتا ہوں دائرے سے کبھی کھینچ لیتی ہے کائنات مجھے یہ جہاں میں سنوار جاوں گا راس آئی اگر حیات مجھے سب تغیر ہے جب ...

    مزید پڑھیے

    کاش مل جائے ہم مزاج کوئی

    کاش مل جائے ہم مزاج کوئی میرے غم کا بھی ہو علاج کوئی جاگ کر رات جب گزارنی ہو ڈھونڈ لیتا ہوں کام کاج کوئی اندر آنے کا در تو بند ہوا کیسے دل پر کرے گا راج کوئی دوستو وقت کی ضرورت ہے پھر بنائیں نیا سماج کوئی معذرت چاہتے ہیں ملنے سے یاد آیا ہوا ہے آج کوئی چپ کا تالا لگا کے ہونٹوں ...

    مزید پڑھیے

    کچھ پتہ میرا نہیں ہے آشیانوں میں کہیں

    کچھ پتہ میرا نہیں ہے آشیانوں میں کہیں گم ہوا ہوں چلتے چلتے کاروانوں میں کہیں اے دعا اس کی خبر لے کر تو جلدی لوٹنا گم گئی ہے آہ میری آسمانوں میں کہیں خواب کے رتھ جس جگہ ہوتا ہے بادل پر سفر آج شب لے جا مجھے تو ان جہانوں میں کہیں ایک سورج چھپ گیا ہے آ کے چادر میں مری ایک سایہ مل گیا ...

    مزید پڑھیے

    کہیں پہ ہجر کا دکھ ہے کہیں وصال کا دکھ

    کہیں پہ ہجر کا دکھ ہے کہیں وصال کا دکھ مری جبیں پہ ہوا ثبت ہر ملال کا دکھ مجھے یہ ڈر ہے کہیں خودکشی نہ کر لو تم تمہاری زیست میں آیا اگر زوال کا دکھ وہ اک سوال کہ جس کا جواب دے نہ سکے ہنوز کاٹتا رہتا ہے اس سوال کا دکھ اسی کی یاد میں گزرے گی زندگی میری جو جاتے جاتے مجھے دے گیا کمال ...

    مزید پڑھیے

    سو کے پتھر پہ کبھی دیکھ کہ سونا کیا ہے

    سو کے پتھر پہ کبھی دیکھ کہ سونا کیا ہے تاکہ معلوم تجھے ہو یہ بچھونا کیا ہے میری تنہائی کسی روز جو مجھ سے کھیلے عین ممکن ہے سمجھ جاؤں کھلونا کیا ہے بیج کوئی بھی ہو وہ جڑ تو پکڑ ہی لے گا طے یہ کرنا ہے کہ نم خاک میں بونا کیا ہے یوں نہ ہونے پہ مرے تجھ کو نہ حیرت ہوگی میں اگر تجھ کو بتا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2