بنجر زمیں پہ چادر سرسبز ڈال دے

بنجر زمیں پہ چادر سرسبز ڈال دے
دریا ہوں مجھ کو جانب صحرا اچھال دے


تیرا ہی نور ان کے بدن سے ہو جلوہ گر
میرے لکھے حروف کو ایسا جمال دے


اٹھیں جو میرے پاؤں تو دھرتی ہو رقص میں
یہ کائنات رقص کرے وہ دھمال دے


حیرت کی دھوپ سے بھی نہ پگھلے وجود برف
رب کمال مجھ کو ہنر بے مثال دے


میرا قدم قدم ہو زمانوں میں معتبر
میرے نقوش جسم کو جاہ و جلال دے


باندھا نہ ہو کسی نے جسے سلک شعر میں
میری زبان فکر کو ایسا خیال دے


کشکول تیرے سامنے فائزؔ نے رکھ دیا
رحمت بدست سکے نگاہوں سے ڈال دے