کچھ پتہ میرا نہیں ہے آشیانوں میں کہیں
کچھ پتہ میرا نہیں ہے آشیانوں میں کہیں
گم ہوا ہوں چلتے چلتے کاروانوں میں کہیں
اے دعا اس کی خبر لے کر تو جلدی لوٹنا
گم گئی ہے آہ میری آسمانوں میں کہیں
خواب کے رتھ جس جگہ ہوتا ہے بادل پر سفر
آج شب لے جا مجھے تو ان جہانوں میں کہیں
ایک سورج چھپ گیا ہے آ کے چادر میں مری
ایک سایہ مل گیا ہے سائبانوں میں کہیں
رات مشعل لے کے ان کو ڈھونڈنے میں جاوں گا
جو چھپے بیٹھے ہیں دل کے راکھ دانوں میں کہیں
گرچہ ہے دشوار پھر بھی ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں
ایک چہرہ گم ہوا آئینہ خانوں میں کہیں
جن کے ہونے سے میسر ہیں تجھے آسانیاں
کاش ہو میرا شمار ان مہربانوں میں کہیں