Mansoor Faaiz

منصور فائز

منصور فائز کی غزل

    در و دیوار بھی دیتے ہیں حوالہ میرا

    در و دیوار بھی دیتے ہیں حوالہ میرا کیسے ممکن ہوا اس شہر میں چرچا میرا تم اگر جان گئے ہو تو لبوں کو سی لو یہی خاموش محبت ہے اثاثہ میرا خوف آتا ہے تجھے دشت کی ویرانی سے اے صبا تو نے ابھی گھر نہیں دیکھا میرا دن نکلتے ہی چلا آئے گا وہ پاس مرے رات سے ملنے گیا ہے ابھی سایہ میرا کوئی ...

    مزید پڑھیے

    مرے مولا ترا تحفہ ہے یہ الہام مجھے (ردیف .. ھ)

    مرے مولا ترا تحفہ ہے یہ الہام مجھے عرش سے آنے لگے ہیں کئی پیغام مجھے ہجر میں بیٹھ کے رونا ہی نہیں مجھ پر فرض اور بھی کرنے ہیں اے دوست کئی کام مجھے جیسے اک ابر چلا آئے برسنے کے لئے ایسے آتی ہے تری یاد سر شام مجھے اس لئے عشق کی بیماری سے ڈرتا ہوں میں عین ممکن ہے کے پھر آئے نہ آرام ...

    مزید پڑھیے

    نظر سے دور افق سے پرے اڑان میں تھے

    نظر سے دور افق سے پرے اڑان میں تھے خدا ہی جانے کہ وہ لوگ کس جہان میں تھے فلک کی سمت اٹھائے ہوئے نگاہیں لوگ جدا جدا کسی معبود کے گمان میں تھے سمجھنے والے سمجھتے ہیں اس حقیقت کو صحیفے جتنے بھی اترے ہماری شان میں تھے یہ رنگ رنگ مناظر یہ رنگ رنگ کے لوگ تمام رات کسی خواب کے مکان میں ...

    مزید پڑھیے

    ترے علاوہ کوئی دوسرا ملا ہی نہیں

    ترے علاوہ کوئی دوسرا ملا ہی نہیں سو تیرے بعد بہت دیر میں جیا ہی نہیں اسی لئے تو کسی کام کا نہیں ہوں میں جو کام کرنے کا تھا وہ کبھی کیا ہی نہیں جہان والے ہمیں مست کہہ رہے ہیں تو کیا کہ اپنا درد کسی اور سے کہا ہی نہیں ہمارے بارے میں کیسے تمہیں خبر ہوتی تمہارے بعد زمانے سے رابطہ ہی ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو ہر حرف مرے لفظ کا الجھا ہوا ہے

    یہ جو ہر حرف مرے لفظ کا الجھا ہوا ہے ایسے لگتا ہے کہیں خواب میں سوچا ہوا ہے کیا یہ ممکن ہے کسی روز اسے چوم سکوں میرے ماتھے پہ ترا نام جو لکھا ہوا ہے پس گئے درد کی چکی کی سلوں میں مرے خواب آنکھ میں نیند نہیں جسم بھی ٹوٹا ہوا ہے آئنہ توڑ دیا ہے مری وحشت نے مگر میرے کمرے میں کوئی مجھ ...

    مزید پڑھیے

    اے رب کائنات یقیں چاہیے ہمیں

    اے رب کائنات یقیں چاہیے ہمیں جو چاہتے ہیں ہم وہ یہیں چاہیے ہمیں غافل کرے جو یاد سے تیری تمام رات اتنا سکون بھی تو نہیں چاہیے ہمیں کب تک ہوا کے دوش پہ چلتے رہیں گے ہم رکھنے کو پاؤں کچھ تو زمیں چاہیے ہمیں اندر کی سمت ہونے لگا ہے سفر نیا باہر پڑا ہے جو بھی نہیں چاہیے ہمیں تارے ...

    مزید پڑھیے

    مانا ہزار سال سے ہوں در بدر رہا

    مانا ہزار سال سے ہوں در بدر رہا لیکن کسی کی چاہ کے زیر اثر رہا جو بجھ گئے چراغ زمیں بوس ہو گئے میں جل رہا تھا اس لئے میں بام پر رہا دریا کے پار سارا قبیلہ اتر گیا لیکن وہ ایک شخص جسے خود کا ڈر رہا دیوانہ وار پھرتا رہا ہے جو دشت دشت آخر وہ کس گمان کے زیر اثر رہا یاران خوش نصیب میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2