کہیں پہ ہجر کا دکھ ہے کہیں وصال کا دکھ

کہیں پہ ہجر کا دکھ ہے کہیں وصال کا دکھ
مری جبیں پہ ہوا ثبت ہر ملال کا دکھ


مجھے یہ ڈر ہے کہیں خودکشی نہ کر لو تم
تمہاری زیست میں آیا اگر زوال کا دکھ


وہ اک سوال کہ جس کا جواب دے نہ سکے
ہنوز کاٹتا رہتا ہے اس سوال کا دکھ


اسی کی یاد میں گزرے گی زندگی میری
جو جاتے جاتے مجھے دے گیا کمال کا دکھ


ہماری آنکھ کی پتلی میں اشک کی صورت
چمک رہا ہے کسی شہر بے مثال کا دکھ