کچھ نہیں کہہ رہی یہ رات مجھے

کچھ نہیں کہہ رہی یہ رات مجھے
درد سے چاہیے نجات مجھے


جانے لگتا ہے ایسا کیوں مجھ کو
پھر گرانا ہے سومنات مجھے


بے نیازی کی اس بلندی پر
کچھ نہیں کہتے سانحات مجھے


جب نکلتا ہوں دائرے سے کبھی
کھینچ لیتی ہے کائنات مجھے


یہ جہاں میں سنوار جاوں گا
راس آئی اگر حیات مجھے


سب تغیر ہے جب حقیقت میں
کسے ممکن کہ ہو ثبات مجھے


مل گئی تو میں دن بناؤں گا
روشنی سے بھری دوات مجھے


چلتے پھرتے ہوئے اجالے میں
ڈھونڈ لیتی ہے روز رات مجھے