سوچ کر دریا ہے کیا صحرا ہے کون
سوچ کر دریا ہے کیا صحرا ہے کون
وادیٔ حیرت میں وہ گم سا ہے کون
جھک رہا ہے آسماں نیچے کی سمت
خاکداں پر دیکھ تو آیا ہے کون
ہونٹ پر سچ چپ کی صورت کھل اٹھا
راز افشا جب ہوا دنیا ہے کون
اٹھ رہی ہوں کس کے چلنے سے سمجھ
دھول میں ہوں پھر بتا رستا ہے کون
جانتا ہوں نیند میں ہوں چل رہا
سوچتا ہوں خواب میں آیا ہے کون