سو کے پتھر پہ کبھی دیکھ کہ سونا کیا ہے
سو کے پتھر پہ کبھی دیکھ کہ سونا کیا ہے
تاکہ معلوم تجھے ہو یہ بچھونا کیا ہے
میری تنہائی کسی روز جو مجھ سے کھیلے
عین ممکن ہے سمجھ جاؤں کھلونا کیا ہے
بیج کوئی بھی ہو وہ جڑ تو پکڑ ہی لے گا
طے یہ کرنا ہے کہ نم خاک میں بونا کیا ہے
یوں نہ ہونے پہ مرے تجھ کو نہ حیرت ہوگی
میں اگر تجھ کو بتا دوں کہ یہ ہونا کیا ہے
ذکر وحشت میں اگر ٹوٹ گری ہے فائزؔ
چھوڑ تسبیح کے دانوں کو پرونا کیا ہے