پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے

پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے
سامنے آنکھ کے یوں تجھ کو سجایا ہوا ہے


در و دیوار تمدن کو گرایا جس نے
ہائے وہ حشر ہمارا ہی اٹھایا ہوا ہے


اپنی پرواز پہ نازاں جو اڑا پھرتا ہے
وہ پرندہ بھی ہمارا ہی اڑایا ہوا ہے


دو گھڑی آنکھ لگا لو کرو احساں ان پر
تم نے خوابوں کو کئی دن سے جگایا ہوا ہے


زور ٹوٹے گا ہوا کا تو کہاں جائے گا
جس غبارے کو فضاؤں میں اڑایا ہوا ہے


میرے چلے کی ریاضت کا ثمر دیکھ ذرا
اپنے ہم زاد کو پہلو میں بٹھایا ہوا ہے