Mansoor Faaiz

منصور فائز

منصور فائز کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے

    پتلیوں پر ترے چہرے کو بنایا ہوا ہے سامنے آنکھ کے یوں تجھ کو سجایا ہوا ہے در و دیوار تمدن کو گرایا جس نے ہائے وہ حشر ہمارا ہی اٹھایا ہوا ہے اپنی پرواز پہ نازاں جو اڑا پھرتا ہے وہ پرندہ بھی ہمارا ہی اڑایا ہوا ہے دو گھڑی آنکھ لگا لو کرو احساں ان پر تم نے خوابوں کو کئی دن سے جگایا ...

    مزید پڑھیے

    سوچ کر دریا ہے کیا صحرا ہے کون

    سوچ کر دریا ہے کیا صحرا ہے کون وادیٔ حیرت میں وہ گم سا ہے کون جھک رہا ہے آسماں نیچے کی سمت خاکداں پر دیکھ تو آیا ہے کون ہونٹ پر سچ چپ کی صورت کھل اٹھا راز افشا جب ہوا دنیا ہے کون اٹھ رہی ہوں کس کے چلنے سے سمجھ دھول میں ہوں پھر بتا رستا ہے کون جانتا ہوں نیند میں ہوں چل رہا سوچتا ...

    مزید پڑھیے

    بنجر زمیں پہ چادر سرسبز ڈال دے

    بنجر زمیں پہ چادر سرسبز ڈال دے دریا ہوں مجھ کو جانب صحرا اچھال دے تیرا ہی نور ان کے بدن سے ہو جلوہ گر میرے لکھے حروف کو ایسا جمال دے اٹھیں جو میرے پاؤں تو دھرتی ہو رقص میں یہ کائنات رقص کرے وہ دھمال دے حیرت کی دھوپ سے بھی نہ پگھلے وجود برف رب کمال مجھ کو ہنر بے مثال دے میرا قدم ...

    مزید پڑھیے

    لوگ جس شخص کو سردار بنا دیتے ہیں

    لوگ جس شخص کو سردار بنا دیتے ہیں اپنی تقدیر کا مختار بنا دیتے ہیں شعر کا رشتہ کسی فکر سے ہو یا نہیں ہو چند الفاظ اسے شہکار بنا دیتے ہیں تجربے پر ہے نئے علم کی بنیاد صدا دائرہ دیکھ کے پرکار بنا دیتے ہیں صاحب کن فیکوں میرے بھی سینے میں اتار لفظ جو آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں اتنا ...

    مزید پڑھیے

    کس سمت مڑ گئی تھی مجھے یاد آ گئی

    کس سمت مڑ گئی تھی مجھے یاد آ گئی ہاں ہاں وہ روشنی تھی مجھے یاد آ گئی تتلی جو گر پڑی تھی مجھے یاد آ گئی سبزے کو چومتی تھی مجھے یاد آ گئی یادوں کے ایک باغ میں رکھے جوں ہی قدم جتنی بھی زندگی تھی مجھے یاد آ گئی پازیب کی صدا تھی جو دیکھا تو اک پری پانی پہ چل رہی تھی مجھے یاد آ گئی لوٹ ...

    مزید پڑھیے

تمام