سلگتی شام کی دہلیز پر جلتا دیا رکھنا

سلگتی شام کی دہلیز پر جلتا دیا رکھنا
ہماری یاد کا خوابوں سے اپنے سلسلہ رکھنا


صدا بن کر گھٹا بن کر فضا بن کر صبا بن کر
نہ جانے کب میں آ جاؤں دریچہ تم کھلا رکھنا


انہیں راہوں سے لوٹوں گی نہ آؤں یہ بھی ممکن ہے
مگر تم ریت پر محفوظ اپنے نقش پا رکھنا


نہ پڑھ لے کوئی تحریریں تمہارے زرد چہرے کی
در و دیوار گھر کے شوخ رنگوں سے سجا رکھنا


جو بہنیں مفلسی سے بھائیوں پر بوجھ بنتی ہیں
وہ مر جائیں تو ان کے ہاتھ میں شاخ حنا رکھنا