میری سانسیں شام کی بھیگی ہوا میں کھل گئیں

میری سانسیں شام کی بھیگی ہوا میں کھل گئیں
بند کی آنکھیں تو ماضی کی کتابیں کھل گئیں


وہ جو بچپن میں بنائی تھی کبھی دیوار پر
اب کہ بارش میں وہ تصویریں بھی ساری دھل گئیں


کر گئیں موجیں شرارت جب بھی لکھا تیرا نام
ریت پر جتنی لکیریں تھیں وہ مل جل گئیں


بند آنکھوں میں سنہرے خواب ٹھہرے تھے مگر
خواب جب پہنچے حقیقت تک تو آنکھیں کھل گئیں