Khan Janbaz

خان جانباز

خان جانباز کی غزل

    تو سامنے ہے پر تری اب بھی کمی ہے دوست

    تو سامنے ہے پر تری اب بھی کمی ہے دوست دریا کے پاس ہوتے ہوئے تشنگی ہے دوست دنیا سے جا رہا ہوں کسی کی طلب لئے ویسے یہ زندگی بڑی اچھی کٹی ہے دوست یہ فلسفے لپیٹ کے تم جیب میں رکھو میں خوب جانتا ہوں محبت بری ہے دوست اب تو بتا کہ کیا ہے یہ تیرے خیال میں جتنا میں جانتا ہوں محبت یہی ہے ...

    مزید پڑھیے

    عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

    عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا چاقو پہ ہے نشان کسی بے گناہ کا قاتل تو ہاتھ میں لئے خنجر چلا گیا وہ تنکا جوڑ ...

    مزید پڑھیے

    صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے

    صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے گر دل نہیں میرا تو ترے بال میں کیا ہے ویسے تو خود اس چاند کا قائل ہوں میں لیکن اک روشنی کو چھوڑ کر اس تھال میں کیا ہے مجنوں ہی بتا سکتا ہے لیلیٰ کی فضیلت یا سوہنی سے پوچھ کہ مہیوال میں کیا ہے میں حشر کے میدان میں کہہ دوں گا محبت پوچھے گا خدا جب ...

    مزید پڑھیے

    مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے

    مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے کسی کا لوہا کسی کا تانبا لگا ہوا ہے نہیں ہے اپنا کوئی بھی دنیا جہاں میں لیکن کسی کو کھونے کا مجھ کو خدشہ لگا ہوا ہے کبھی تھی ٹھنڈی زمین سائے سے جن کے لوگو ہمارا ایسے شجر سے شجرہ لگا ہوا ہے وہ شوخ لڑکی حسین چہرہ کمال باتیں سنا ہے اس کا کسی سے ...

    مزید پڑھیے

    یہ ضروری تو نہیں ساتھ میں لشکر نکلے

    یہ ضروری تو نہیں ساتھ میں لشکر نکلے کربلا یاد کرو صرف بہتر نکلے گرتے گرتے ہی سہی دوڑ کے اکثر نکلے گرد آنکھوں میں لئے جب بھی سفر پر نکلے سرخ دل دیکھ کے ہاتھوں میں اٹھانے والے پھر نہ کہنا جو ترے ہاتھ سے پتھر نکلے سوچتا ہوں وہ چمکتا ہو ستاروں جیسا چاہتا ہوں وہ مری سوچ سے بڑھ کر ...

    مزید پڑھیے

    میرے دل کو اس طرح لگتا تمہارا بوجھ ہے

    میرے دل کو اس طرح لگتا تمہارا بوجھ ہے جس طرح بے نور آنکھوں کو نظارہ بوجھ ہے ہم کو کیا مطلب حسیں ہوگی تو ہوگی عمر یہ ہم یتیموں کے لیے بچپن ہمارا بوجھ ہے دونوں کندھے جھک گئے اٹھرہ برس کی عمر میں مجھ اکیلی جان پر سارے کا سارا بوجھ ہے آسمانوں پر بھی رائج ہے زمیں جیسا نظام دیکھ اوپر ...

    مزید پڑھیے

    اس قدر تھا یہ گریبان مرا چاک میاں

    اس قدر تھا یہ گریبان مرا چاک میاں قیس بھی دیکھ کے کہتا تھا خطرناک میاں سرخ آنکھیں نا پھٹی آپ کی پوشاک میاں ہجر کاٹا ہے بھلا آپ نے کیا خاک میاں جاوداں عشق ہو اپنا یہ دعا مانگی تھی پھر ہوا عشق کا انجام المناک میاں پھینک آیا ہوں میں اک ریل کی پٹری پہ بدن گھر میں رکھتا بھلا کب تک خس ...

    مزید پڑھیے

    منتیں کرتا تھا رک جاؤ مرا کوئی نہیں

    منتیں کرتا تھا رک جاؤ مرا کوئی نہیں میرے روکے سے مگر کون رکا کوئی نہیں دوست معشوق صنم اور خدا کوئی نہیں میں تو سب کا ہوں پر افسوس مرا کوئی نہیں اب تو لازم ہے کہ وہ شخص مرا ہو جائے اب تو دنیا میں مرا اس کے سوا کوئی نہیں عمر بھر ساتھ نبھانے کا یہ وعدہ ہائے عمر بھر ساتھ بھلا کوئی ...

    مزید پڑھیے

    میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہوگا

    میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہوگا حسین شخص ہے ممکن ہے بے وفا ہوگا تمہیں خیال بھی آیا سفر پہ جاتے ہوئے تمہارے بعد ہمارا یہاں پہ کیا ہوگا میں جھوٹ بول کے آیا تھا واپسی کا جسے وہ شخص اب بھی مری راہ دیکھتا ہوگا یہ دوستی نہ کہیں پیار میں بدل جائے اب اپنے درمیاں تھوڑا سا فاصلہ ...

    مزید پڑھیے

    گر مرے ہاتھ میں ہوتا نہیں ہونے دیتا

    گر مرے ہاتھ میں ہوتا نہیں ہونے دیتا میں کبھی چاند کو تجھ سا نہیں ہونے دیتا اب تو سب ٹھیک ہے لیکن یہ جو ماضی ہے نا آج بھی تجھ پہ بھروسا نہیں ہونے دیتا بچ گیا ہے جو ترا تھوڑا سا حصہ مجھ میں اب تلک مجھ کو کسی کا نہیں ہونے دیتا اس کی تخلیق میں ہوتا جو مرا دخل تو میں کسی مٹی کو کھلونا ...

    مزید پڑھیے