یہ ضروری تو نہیں ساتھ میں لشکر نکلے

یہ ضروری تو نہیں ساتھ میں لشکر نکلے
کربلا یاد کرو صرف بہتر نکلے


گرتے گرتے ہی سہی دوڑ کے اکثر نکلے
گرد آنکھوں میں لئے جب بھی سفر پر نکلے


سرخ دل دیکھ کے ہاتھوں میں اٹھانے والے
پھر نہ کہنا جو ترے ہاتھ سے پتھر نکلے


سوچتا ہوں وہ چمکتا ہو ستاروں جیسا
چاہتا ہوں وہ مری سوچ سے بڑھ کر نکلے


کیوں نہ میں شعر کہوں آتش غم میں جاناں
کیوں نہ دل کا یہ دھواں جسم سے باہر نکلے