میرے دل کو اس طرح لگتا تمہارا بوجھ ہے

میرے دل کو اس طرح لگتا تمہارا بوجھ ہے
جس طرح بے نور آنکھوں کو نظارہ بوجھ ہے


ہم کو کیا مطلب حسیں ہوگی تو ہوگی عمر یہ
ہم یتیموں کے لیے بچپن ہمارا بوجھ ہے


دونوں کندھے جھک گئے اٹھرہ برس کی عمر میں
مجھ اکیلی جان پر سارے کا سارا بوجھ ہے


آسمانوں پر بھی رائج ہے زمیں جیسا نظام
دیکھ اوپر آج کل کوئی ستارہ بوجھ ہے


سر پہ پھرتی ہے لئے وہ اپنے پہلے عشق کو
کتنی پیاری لڑکی ہے اور کتنا پیارا بوجھ ہے


سر پہ میرے پہلے سے تھیں گھر کی ذمہ داریاں
اور اب یہ عشق یارو کتنا سارا بوجھ ہے