Khan Janbaz

خان جانباز

خان جانباز کی نظم

    نظم

    نہ جانے کتنے دن گزرے نہ کوئی کال نہ میسج نہ کوئی رابطہ رکھا تمہیں میں یاد تو ہوں نا یا مجھ کو بھول بیٹھے ہو کہاں اپنا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ارادہ تھا کہ چاہے جو بھی ہو جائے کبھی بھی ہم نہ بچھڑیں گے تمہارا بھی تو وعدہ تھا تمہیں معلوم ہے کیسے تمہارے بن رہا ہوں میں میں شب بھر جاگتا اور ...

    مزید پڑھیے

    بے نام اداسی

    وہ ایک بے نام سی اداسی جو ایک مدت سے شام ڈھلتے ہی پھاٹکوں اور کھڑکیوں سے ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہمارے کمرے میں آ رہی تھی کہاں گئی وہ

    مزید پڑھیے