نظم
نہ جانے کتنے دن گزرے نہ کوئی کال نہ میسج نہ کوئی رابطہ رکھا تمہیں میں یاد تو ہوں نا یا مجھ کو بھول بیٹھے ہو کہاں اپنا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ارادہ تھا کہ چاہے جو بھی ہو جائے کبھی بھی ہم نہ بچھڑیں گے تمہارا بھی تو وعدہ تھا تمہیں معلوم ہے کیسے تمہارے بن رہا ہوں میں میں شب بھر جاگتا اور ...