اس قدر تھا یہ گریبان مرا چاک میاں
اس قدر تھا یہ گریبان مرا چاک میاں
قیس بھی دیکھ کے کہتا تھا خطرناک میاں
سرخ آنکھیں نا پھٹی آپ کی پوشاک میاں
ہجر کاٹا ہے بھلا آپ نے کیا خاک میاں
جاوداں عشق ہو اپنا یہ دعا مانگی تھی
پھر ہوا عشق کا انجام المناک میاں
پھینک آیا ہوں میں اک ریل کی پٹری پہ بدن
گھر میں رکھتا بھلا کب تک خس و خاشاک میاں
عمر بھر مجھ کو کسی ایک کا ہونے نہ دیا
مجھ سے بڑھ کر تو مرا دل ہی تھا چالاک میاں