صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے
صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے
گر دل نہیں میرا تو ترے بال میں کیا ہے
ویسے تو خود اس چاند کا قائل ہوں میں لیکن
اک روشنی کو چھوڑ کر اس تھال میں کیا ہے
مجنوں ہی بتا سکتا ہے لیلیٰ کی فضیلت
یا سوہنی سے پوچھ کہ مہیوال میں کیا ہے
میں حشر کے میدان میں کہہ دوں گا محبت
پوچھے گا خدا جب ترے اعمال میں کیا ہے
جی کرتا ہے ان کو تری تصویر دکھا دوں
جو پوچھتے ہیں مجھ سے کہ بنگال میں کیا ہے
اللہ بنا دے مرے اشکوں کو کبوتر
سب پوچھ رہے ہیں ترے رومال میں کیا ہے