میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہوگا

میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہوگا
حسین شخص ہے ممکن ہے بے وفا ہوگا


تمہیں خیال بھی آیا سفر پہ جاتے ہوئے
تمہارے بعد ہمارا یہاں پہ کیا ہوگا


میں جھوٹ بول کے آیا تھا واپسی کا جسے
وہ شخص اب بھی مری راہ دیکھتا ہوگا


یہ دوستی نہ کہیں پیار میں بدل جائے
اب اپنے درمیاں تھوڑا سا فاصلہ ہوگا


یہ راز مجھ پہ کھلا اب کہ میرا کوئی نہیں
میں سوچتا تھا مرے ساتھ بھی خدا ہوگا


یہ شاعری کا تو خود شوق تھا اسے جانبازؔ
ہاں شاعروں سے کوئی مسئلہ رہا ہوگا