تو سامنے ہے پر تری اب بھی کمی ہے دوست

تو سامنے ہے پر تری اب بھی کمی ہے دوست
دریا کے پاس ہوتے ہوئے تشنگی ہے دوست


دنیا سے جا رہا ہوں کسی کی طلب لئے
ویسے یہ زندگی بڑی اچھی کٹی ہے دوست


یہ فلسفے لپیٹ کے تم جیب میں رکھو
میں خوب جانتا ہوں محبت بری ہے دوست


اب تو بتا کہ کیا ہے یہ تیرے خیال میں
جتنا میں جانتا ہوں محبت یہی ہے دوست


ایسا نہیں کہ آنکھ میں آنسو بچے فقط
ان آنسوؤں کے ساتھ میں اک خواب بھی ہے دوست


سچ مچ تو کوئی توڑ کے لاتا نہیں ہے چاند
یہ شاعری ہے اور فقط شاعری ہے دوست


پانے کی ضد نہ کوئی بچھڑنے کا خوف ہے
اچھا ہے تجھ سے عشق نہیں دوستی ہے دوست