منتیں کرتا تھا رک جاؤ مرا کوئی نہیں

منتیں کرتا تھا رک جاؤ مرا کوئی نہیں
میرے روکے سے مگر کون رکا کوئی نہیں


دوست معشوق صنم اور خدا کوئی نہیں
میں تو سب کا ہوں پر افسوس مرا کوئی نہیں


اب تو لازم ہے کہ وہ شخص مرا ہو جائے
اب تو دنیا میں مرا اس کے سوا کوئی نہیں


عمر بھر ساتھ نبھانے کا یہ وعدہ ہائے
عمر بھر ساتھ بھلا کوئی رہا کوئی نہیں


میرے مولا یہ ترے سات عرب لوگوں میں
کوئی بھی میرا نہیں ہے بخدا کوئی نہیں


بے وفائی کو بڑا جرم بتانے والے
یاد ہے تو نے بھی چل چھوڑ ہٹا کوئی نہیں


میں بھی قائل ہوں تری چارہ گری کا لیکن
اک مرض ایسا بھی ہے جس کی دوا کوئی نہیں