Khan Janbaz

خان جانباز

خان جانباز کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    تو سامنے ہے پر تری اب بھی کمی ہے دوست

    تو سامنے ہے پر تری اب بھی کمی ہے دوست دریا کے پاس ہوتے ہوئے تشنگی ہے دوست دنیا سے جا رہا ہوں کسی کی طلب لئے ویسے یہ زندگی بڑی اچھی کٹی ہے دوست یہ فلسفے لپیٹ کے تم جیب میں رکھو میں خوب جانتا ہوں محبت بری ہے دوست اب تو بتا کہ کیا ہے یہ تیرے خیال میں جتنا میں جانتا ہوں محبت یہی ہے ...

    مزید پڑھیے

    عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

    عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا چاقو پہ ہے نشان کسی بے گناہ کا قاتل تو ہاتھ میں لئے خنجر چلا گیا وہ تنکا جوڑ ...

    مزید پڑھیے

    صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے

    صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے گر دل نہیں میرا تو ترے بال میں کیا ہے ویسے تو خود اس چاند کا قائل ہوں میں لیکن اک روشنی کو چھوڑ کر اس تھال میں کیا ہے مجنوں ہی بتا سکتا ہے لیلیٰ کی فضیلت یا سوہنی سے پوچھ کہ مہیوال میں کیا ہے میں حشر کے میدان میں کہہ دوں گا محبت پوچھے گا خدا جب ...

    مزید پڑھیے

    مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے

    مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے کسی کا لوہا کسی کا تانبا لگا ہوا ہے نہیں ہے اپنا کوئی بھی دنیا جہاں میں لیکن کسی کو کھونے کا مجھ کو خدشہ لگا ہوا ہے کبھی تھی ٹھنڈی زمین سائے سے جن کے لوگو ہمارا ایسے شجر سے شجرہ لگا ہوا ہے وہ شوخ لڑکی حسین چہرہ کمال باتیں سنا ہے اس کا کسی سے ...

    مزید پڑھیے

    یہ ضروری تو نہیں ساتھ میں لشکر نکلے

    یہ ضروری تو نہیں ساتھ میں لشکر نکلے کربلا یاد کرو صرف بہتر نکلے گرتے گرتے ہی سہی دوڑ کے اکثر نکلے گرد آنکھوں میں لئے جب بھی سفر پر نکلے سرخ دل دیکھ کے ہاتھوں میں اٹھانے والے پھر نہ کہنا جو ترے ہاتھ سے پتھر نکلے سوچتا ہوں وہ چمکتا ہو ستاروں جیسا چاہتا ہوں وہ مری سوچ سے بڑھ کر ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    نظم

    نہ جانے کتنے دن گزرے نہ کوئی کال نہ میسج نہ کوئی رابطہ رکھا تمہیں میں یاد تو ہوں نا یا مجھ کو بھول بیٹھے ہو کہاں اپنا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ارادہ تھا کہ چاہے جو بھی ہو جائے کبھی بھی ہم نہ بچھڑیں گے تمہارا بھی تو وعدہ تھا تمہیں معلوم ہے کیسے تمہارے بن رہا ہوں میں میں شب بھر جاگتا اور ...

    مزید پڑھیے

    بے نام اداسی

    وہ ایک بے نام سی اداسی جو ایک مدت سے شام ڈھلتے ہی پھاٹکوں اور کھڑکیوں سے ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہمارے کمرے میں آ رہی تھی کہاں گئی وہ

    مزید پڑھیے