خالد سجاد کی غزل

    اپنی غزل کے طائر خوں ناب کے لیے

    اپنی غزل کے طائر خوں ناب کے لیے کچھ زخم لے کے آیا ہوں احباب کے لئے پھر یوں ہوا کہ داغ ہی ہاتھوں میں رہ گئے رستہ بنا رہا تھا میں مہتاب کے لیے مدت سے پھر رہا ہوں میں بازار شوق میں اک لفظ کی تلاش ہے آداب کے لئے خوشبو شباب حسن یہ دھوکہ ہی اک سہی کچھ تو بہانہ چاہئے زہراب کے لیے اتنی ...

    مزید پڑھیے

    کون یہ آگ لیے روز یہاں آتا ہے

    کون یہ آگ لیے روز یہاں آتا ہے سانس لیتا ہوں تو اندر سے دھواں آتا ہے ہم نے تو پیاس بجھانی ہے فقط اشکوں سے دشت ہجراں سے کہاں آب رواں آتا ہے یہ بھی کافی ہے کہ وہ یاد تو کرتا ہے مجھے کوئی ملنے کو بھلا روز کہاں آتا ہے ہجر اک ایسا علاقہ ہے کہ جس سے آگے گریۂ دل کے لیے شہر زیاں آتا ہے میں ...

    مزید پڑھیے

    لہو میں جتنی جولانی رہے گی

    لہو میں جتنی جولانی رہے گی سفر میں اتنی آسانی رہے گی محبت سے گلے ملتے ہیں یارو کہاں نفرت پریشانی رہے گی تجھے دیکھے جو مدت ہو گئی ہے نگاہوں میں تو ویرانی رہے گی اے میرے چاند گہنائے گا تو بھی کہاں تک تجھ میں تابانی رہے گی

    مزید پڑھیے

    عشق جب سے عذاب ہو گیا ہے

    عشق جب سے عذاب ہو گیا ہے دل کا خانہ خراب ہو گیا ہے مجھ کو فرصت نہیں ہے پڑھنے کی اس کا چہرہ کتاب ہو گیا ہے پوچھ مت اس کے لمس کا نشہ جسم سارا شراب ہو گیا ہے دھوپ نکلی ہوئی ہے چاروں طرف کون یہ بے حجاب ہو گیا ہے اپنے حصے میں رات کیا آئی ہر کوئی آفتاب ہو گیا ہے عشق جس سے ہوا مجھے ...

    مزید پڑھیے

    رضاکاران عشق امداد کرنا

    رضاکاران عشق امداد کرنا ہمیں خود کو ہے خود برباد کرنا خدائی پر حکومت چاہتے ہو تو پہلے اک خدا ایجاد کرنا کبھی مشرق کو مغرب سے بدلنا کبھی شیریں کو بھی فرہاد کرنا ملیں گے عشق کی بنیاد پر ہم مگر تم باتیں بے بنیاد کرنا مجھے صحرا میں آ کے یاد آیا بڑا مشکل ہے گھر آباد کرنا دیا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    جنہیں سفر کے لیے حوصلہ نہیں ملتا

    جنہیں سفر کے لیے حوصلہ نہیں ملتا ہجوم میں بھی انہیں راستہ نہیں ملتا برا نہ مان اگر دیکھنے لگا ہوں تجھے میں کیا کروں کہ مجھے آئنہ نہیں ملتا لگی ہوئی ہے یوں ہی دل کو حرص دنیا کی وگرنہ ان سے جو مانگوں تو کیا نہیں ملتا میں اپنے گھر سے نکل کر کہاں چلا آیا کہ شہر بھر میں کوئی آشنا ...

    مزید پڑھیے

    ہونٹوں کی ہنسی درد کا درماں تو نہیں ہے

    ہونٹوں کی ہنسی درد کا درماں تو نہیں ہے میری ہی طرح تو بھی پریشاں تو نہیں ہے میں تجھ کو کبھی خود سے الگ کر نہیں سکتا تو ضد ہے مری تو کوئی ارماں تو نہیں ہے کیا جانئے کیوں دھوپ نکل آئی اچانک جو سر پہ ہے وہ ابر گریزاں تو نہیں ہے اے مجھ پہ امڈ آئے ہوئے چاند بتا دے یہ چاندنی اک رات کی ...

    مزید پڑھیے

    کام کا ایک یہی کام کیا

    کام کا ایک یہی کام کیا عشق در عشق صبح و شام کیا دل جواباً دھڑک رہا تھا مرا تو نے آنکھوں سے جب سلام کیا مجھ کو تجھ سے بڑی محبت ہے لے یہ دل میں نے تیرے نام کیا بیعت عشق توڑ دی اس نے جس نے دنیا کا احترام کیا تب سمجھ آیا خال و خد کا کلام تجھ سے جب روبرو کلام کیا میری بد نامیوں سے ...

    مزید پڑھیے

    خاک میری بکھر گئی ہے کیا

    خاک میری بکھر گئی ہے کیا آسماں تک نظر گئی ہے کیا کس لیے تم اداس پھرتے ہو دل سے دنیا اتر گئی ہے کیا اپنی مرضی سے در بدر ہوں میں تو بتا اپنے گھر گئی ہے کیا اے صبا جس طرف ہے پھول مرا یہ بتا تو ادھر گئی ہے کیا یہ جو دن میں بدل گئی ہے رات زلف تیری سنور گئی ہے کیا تیرے ماتھے پہ کیوں ...

    مزید پڑھیے

    ضعیفی اس لئے مجھ کو سہانی لگتی ہے

    ضعیفی اس لئے مجھ کو سہانی لگتی ہے اسے کمانے میں پوری جوانی لگتی ہے نتیجہ یہ ہے کہ برسوں تلاش ذات کے بعد وہاں کھڑا ہوں جہاں ریت پانی لگتی ہے گزر رہا ہوں میں الہام کی اذیت سے ہر ایک بات ہی مجھ کو پرانی لگتی ہے اداس چہرے کی روتی ہوئی ہنسی مجھ کو کسی کے ہجر کی پہلی نشانی لگتی ...

    مزید پڑھیے