رضاکاران عشق امداد کرنا

رضاکاران عشق امداد کرنا
ہمیں خود کو ہے خود برباد کرنا


خدائی پر حکومت چاہتے ہو
تو پہلے اک خدا ایجاد کرنا


کبھی مشرق کو مغرب سے بدلنا
کبھی شیریں کو بھی فرہاد کرنا


ملیں گے عشق کی بنیاد پر ہم
مگر تم باتیں بے بنیاد کرنا


مجھے صحرا میں آ کے یاد آیا
بڑا مشکل ہے گھر آباد کرنا


دیا ہوں اور مجھے آتا نہیں ہے
ہوا کے سامنے فریاد کرنا


محبت جب کبھی بھی کرنا خالدؔ
جناب قیس کو استاد کرنا