ضعیفی اس لئے مجھ کو سہانی لگتی ہے
ضعیفی اس لئے مجھ کو سہانی لگتی ہے
اسے کمانے میں پوری جوانی لگتی ہے
نتیجہ یہ ہے کہ برسوں تلاش ذات کے بعد
وہاں کھڑا ہوں جہاں ریت پانی لگتی ہے
گزر رہا ہوں میں الہام کی اذیت سے
ہر ایک بات ہی مجھ کو پرانی لگتی ہے
اداس چہرے کی روتی ہوئی ہنسی مجھ کو
کسی کے ہجر کی پہلی نشانی لگتی ہے
زمیں کی خاک تو بکتی ہے کاغذات پہ اور
بشر کی خاک کی بولی زبانی لگتی ہے
میں اپنا عکس کسی اور شے میں دیکھوں گا
کہ آئنے میں تو صورت پرانی لگتی ہے
تو میرے جسم کو چھو کر بتا میں کیسا ہوں
مجھے تو خاک یہ صدیوں پرانی لگتی ہے
مصیبتوں کے تسلسل کو توڑ دیتی ہے
کبھی کبھی کی خوشی ناگہانی لگتی ہے
یہ کیسی خاک سے تو نے بنا دیا ہے مجھے
کہ سانس لیتے ہوئے رائیگانی لگتی ہے
میں رفتگاں کی ثقافت ہوں سو مری ہستی
مرے ہی بچوں کو قصہ کہانی لگتی ہے
کلام کرتی ہے خالدؔ جب آنسوؤں کی زباں
زمیں کی بات بھی تب آسمانی لگتی ہے