کام کا ایک یہی کام کیا

کام کا ایک یہی کام کیا
عشق در عشق صبح و شام کیا


دل جواباً دھڑک رہا تھا مرا
تو نے آنکھوں سے جب سلام کیا


مجھ کو تجھ سے بڑی محبت ہے
لے یہ دل میں نے تیرے نام کیا


بیعت عشق توڑ دی اس نے
جس نے دنیا کا احترام کیا


تب سمجھ آیا خال و خد کا کلام
تجھ سے جب روبرو کلام کیا


میری بد نامیوں سے پوچھ تجھے
کتنی مشکل سے نیک نام کیا


ہم پیمبر ہیں حسن جاناں کے
اس شریعت کو ہم نے عام کیا


درد کے اب وہاں خزانے ہیں
میں نے خالدؔ جہاں قیام کیا