کون یہ آگ لیے روز یہاں آتا ہے
کون یہ آگ لیے روز یہاں آتا ہے
سانس لیتا ہوں تو اندر سے دھواں آتا ہے
ہم نے تو پیاس بجھانی ہے فقط اشکوں سے
دشت ہجراں سے کہاں آب رواں آتا ہے
یہ بھی کافی ہے کہ وہ یاد تو کرتا ہے مجھے
کوئی ملنے کو بھلا روز کہاں آتا ہے
ہجر اک ایسا علاقہ ہے کہ جس سے آگے
گریۂ دل کے لیے شہر زیاں آتا ہے
میں ترے جانے سے ناراض نہیں ہوں اے دوست
پیڑ جھڑ جاتے ہیں جب دور خزاں آتا ہے
کون سی راہ پہ تو چھوڑ گیا ہے مجھ کو
ختم ہوتا ہے سفر اور نہ مکاں آتا ہے
اس جگہ کیسے کوئی خواب محبت دیکھے
رات کے وقت جہاں شور سگاں آتا ہے
یہ زمیں اس لیے آباد ہے خالد سجادؔ
ایک در ہے کہ جہاں سارا جہاں آتا ہے