خالد سجاد کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    اپنی غزل کے طائر خوں ناب کے لیے

    اپنی غزل کے طائر خوں ناب کے لیے کچھ زخم لے کے آیا ہوں احباب کے لئے پھر یوں ہوا کہ داغ ہی ہاتھوں میں رہ گئے رستہ بنا رہا تھا میں مہتاب کے لیے مدت سے پھر رہا ہوں میں بازار شوق میں اک لفظ کی تلاش ہے آداب کے لئے خوشبو شباب حسن یہ دھوکہ ہی اک سہی کچھ تو بہانہ چاہئے زہراب کے لیے اتنی ...

    مزید پڑھیے

    کون یہ آگ لیے روز یہاں آتا ہے

    کون یہ آگ لیے روز یہاں آتا ہے سانس لیتا ہوں تو اندر سے دھواں آتا ہے ہم نے تو پیاس بجھانی ہے فقط اشکوں سے دشت ہجراں سے کہاں آب رواں آتا ہے یہ بھی کافی ہے کہ وہ یاد تو کرتا ہے مجھے کوئی ملنے کو بھلا روز کہاں آتا ہے ہجر اک ایسا علاقہ ہے کہ جس سے آگے گریۂ دل کے لیے شہر زیاں آتا ہے میں ...

    مزید پڑھیے

    لہو میں جتنی جولانی رہے گی

    لہو میں جتنی جولانی رہے گی سفر میں اتنی آسانی رہے گی محبت سے گلے ملتے ہیں یارو کہاں نفرت پریشانی رہے گی تجھے دیکھے جو مدت ہو گئی ہے نگاہوں میں تو ویرانی رہے گی اے میرے چاند گہنائے گا تو بھی کہاں تک تجھ میں تابانی رہے گی

    مزید پڑھیے

    عشق جب سے عذاب ہو گیا ہے

    عشق جب سے عذاب ہو گیا ہے دل کا خانہ خراب ہو گیا ہے مجھ کو فرصت نہیں ہے پڑھنے کی اس کا چہرہ کتاب ہو گیا ہے پوچھ مت اس کے لمس کا نشہ جسم سارا شراب ہو گیا ہے دھوپ نکلی ہوئی ہے چاروں طرف کون یہ بے حجاب ہو گیا ہے اپنے حصے میں رات کیا آئی ہر کوئی آفتاب ہو گیا ہے عشق جس سے ہوا مجھے ...

    مزید پڑھیے

    رضاکاران عشق امداد کرنا

    رضاکاران عشق امداد کرنا ہمیں خود کو ہے خود برباد کرنا خدائی پر حکومت چاہتے ہو تو پہلے اک خدا ایجاد کرنا کبھی مشرق کو مغرب سے بدلنا کبھی شیریں کو بھی فرہاد کرنا ملیں گے عشق کی بنیاد پر ہم مگر تم باتیں بے بنیاد کرنا مجھے صحرا میں آ کے یاد آیا بڑا مشکل ہے گھر آباد کرنا دیا ہوں ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    ماں

    جب بھی کبھی جنت کو تصور میں بسایا اے ماں مری خود کو ترے قدموں میں ہی پایا دنیا کے کسی پیڑ کی چھانو میں نہیں ہے جو مجھ کو عطا کرتا ہے ٹھنڈک ترا سایہ اس رب کا ادا شکر بھلا کیوں نہ کروں میں جس نے تری صورت میں ہی جنت کو دکھایا دھرتی پہ میں اب اس لیے پیروں پہ کھڑا ہوں میں چلتے ہوئے جب بھی ...

    مزید پڑھیے